حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد حسین انصاریان نے تہران کے علاقے خانیآباد نو میں مسجد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایام فاطمیہ کی چوتھی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت دو وجوہات کی بنا پر ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ اس سے انسان کی دنیا اور آخرت سنورتی ہے اور دوسری یہ کہ انسان شیطان کے دکھائے ہوئے راستوں پر چلنے سے محفوظ رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر محبت اور مہربانی کی وجہ سے اپنی، اپنے رسول اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی اطاعت واجب قرار دی ہے تاکہ انسان دنیا میں گناہوں اور حرام کاموں سے بچے اور اپنی آخرت بھی خراب نہ کرے۔ اگر انسان اس راستے سے ہٹ جائے تو وہ لازماً کسی دوسرے کی پیروی کرنے لگتا ہے۔
استاد انصاریان نے غلط احکامات کی پیروی کے خطرات کی مثال دیتے ہوئے امریکہ کی حکومت اور اس کی فوج کا ذکر کیا اور کہا کہ بے گناہ انسانوں اور شہری مراکز پر حملے جیسے ظالمانہ احکامات کی تعمیل غلط راستے پر چلنے کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے میناب کے اسکول پر حملے میں ۱۶۸ معصوم بچوں کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت چھوڑ کر ظالم اور شیطانی طاقتوں کا فرمانبردار نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ایک روایت بیان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ علم رکھنے والے، عبادت کرنے والے اور حتیٰ کہ مخلص افراد بھی انحراف کے خطرے سے محفوظ نہیں ہیں۔ اس لیے کسی کو اپنے علم، عبادت یا مذہبی سرگرمیوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہر حال میں اخلاص کی حفاظت اور الٰہی احکام کی پابندی ضروری ہے۔
خاندانی زندگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ غصے اور سختی کا اظہار دشمنوں کے مقابلے میں ہونا چاہیے، نہ کہ گھر میں بیوی، بچوں اور دیگر عزیزوں کے ساتھ۔ اہل خانہ کی غلطیوں کو بار بار یاد دلانا اور انہیں طعنے دینا محبت ختم کرنے اور دلوں میں نفرت پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے گھر میں صبر، معافی اور نرمی سے کام لینا چاہیے۔
استاد انصاریان نے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے پرانے زمانے کے دیندار دکانداروں کی شرعی احکام کی پابندی کی مثال بھی پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عطار خرما تولتے وقت خریدار سے تھیلی کی قیمت وصول نہیں کرتا تھا، کیونکہ وہ اسے شرعی طور پر درست نہیں سمجھتا تھا۔
آخر میں انہوں نے قیامت میں مؤمنین کی آسان حسابرسی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے ساتھ زندگی گزارنا انسان کی سب سے بہترین اور خوشگوار زندگی ہے۔ حقیقی سکون اور خوشی اللہ تعالیٰ اور اس کے اولیائے الٰہی کی اطاعت اور ان سے معنوی تعلق میں ہے۔










آپ کا تبصرہ